اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ممتاز عالم دین علامہ قنبر عباس نقوی نے اس واقعے کو فرقہ وارانہ فسادات کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا سعید جلال پوری کے قاتل وہی لوگ ہیں جنہوں نے عاشورہ اور چہلم کے موقع پر عزاداروں کو لہو میں نہلایا۔
انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکنے والے صاحبانِ علم کو غور و فکر سے کام لیکر اصل دشمن کو پہچاننا ہوگا۔ انہوں نے کہا علمائے کرام کا قتل اتحاد بین المسلمین کو پارہ پارہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔
علامہ قنبر عباس نقوی نے کہا کہ مولانا سعید جلال پوری اور ان کے رفقا کا قتل ایک منظم عالمی سازش کا پیش خیمہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے، حکومت زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے اس سازش میں ملوث خفیہ ہاتھ بے نقاب کرے۔
علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرمملکت برائے مذہبی امور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ممتاز عالم دین مولانا سعید جلال پوری اور ان کے رفقا کے قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلام پر منکرینِ ختمِ نبوّت کا گھناؤنا وار قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مولانا کے قاتلوں تک پہنچنے سے پہلے انتظامیہ میں تطہیر کی جائے تاکہ قاتلوں کو تحفظ دینے والے چہرے بے نقاب ہوسکیں۔
152/